ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ’یو پی ایس سی جہاد‘کے نام پر سدرشن ٹی وی کا مسلمانوں کے خلاف زہریلا پروپگنڈا؛ IPS ایسوسی ایشن کی مذمت۔ جامعہ ملیہ کرے گا قانونی کارروائی

’یو پی ایس سی جہاد‘کے نام پر سدرشن ٹی وی کا مسلمانوں کے خلاف زہریلا پروپگنڈا؛ IPS ایسوسی ایشن کی مذمت۔ جامعہ ملیہ کرے گا قانونی کارروائی

Fri, 28 Aug 2020 20:07:31    S.O. News Service

نئی دہلی 28/اگست (ایس او نیوز) اسلام اورمسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کے لئے بدنام زمامہ ہندوتوا وادی ٹی وی چینل نے اب ایک اور خطرناک شوشہ چھوڑتے ہوئے سول سروسس امتحانات میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی کامیابی کو ’یو پی ایس سی /بیوروکریسی جہاد‘ کانام دیا ہے اور اسے مسلمانوں کی طرف سے پولیس اور انتظامیہ میں گھس پیٹھ کرنے کی بڑی سازش کہتے ہوئے اس کا پردہ فاش کرنے کے لئے سیریل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 جمعہ 28اگست سے شروع کیے جانے والے اس پروگرام کو پرومو پیش کرتے ہوئے اس کے ایڈیٹر انچیف سریش چوہانکے نے اپنے ٹیزرجو اشتعال انگیز اشارے دئے ہیں اور ٹویٹر پر جو اعلان پوسٹ کیا ہے اس کے خلاف عوام کے باشعور اور انصاف پسند حلقے سے سخت اعتراض کیا جارہا ہے اورمسلمانوں کی اس طرح کردار کشی کرنے پر روک لگانے کی مانگ کی ہے۔

 ملک کے باوقار ادارے انڈین پولیس سروس ایسوسی ایشن نے کھل کر سدرشن ٹی وی اور اس کے ایڈیٹر کی مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کی نیت سے شروع کیے جانے والے اس پروگرام کو ’خالص زہر‘ اور ’خطرناک تعصب‘قرار دیتے ہوئے ’نیوز براڈکاسٹنگ اسٹانڈرڈ اتھاریٹی‘، یوپی پولیس، چیر مین یوپی ایس سی اور متعلقہ سرکاری محکمہ جات سے مانگ کی ہے کہ اس پر فوراً روک لگادی جائے۔آئی پی ایس ایسوسی ایشن کے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ:”سول سروسس کے امیدواروں کو مذہبی بنیاد پر نشانہ بناتے ہوئے سدرشن ٹی وی کے ذریعے ایک نیوز اسٹوری پھیلائی جارہی ہے۔ہم اس فرقہ وارانہ اور غیر ذمہ دارانہ صحافت کی مذمت کرتے ہیں۔“

 اس کے علاوہ بہت سارے آئی اے ایس، آئی پی ایس افسران نے ٹویٹر پر سدرشن ٹی وی کے اس رویے اور پروگرام کے خلاف اعتراضات جتائے ہیں۔ اور پولیس اور حکام سے اپیل کی ہے کہ ایک طبقے کے خلاف زہر افشانی اور مختلف طبقات کے درمیان نفرت اور دشمنی پھیلانے کی اس کوشش پر فوراً پابندی لگادی جائے۔

 ادھر جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے معتبر ذرائع سے خبر ملی ہے کہ یونیورسٹی وائس چانسلر کے ذریعے سدرشن ٹی وی اور ایڈیٹر چوہانکے کے خلاف قانونی کارروائی اقدام کرنے کی تیاری ہورہی ہے کیونکہ سریش چوہانکے نے اپنے پروگرام کے ٹیزر میں جامعہ ملیہ کو بھی ٹارگیٹ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یوپی ایس سی جہاد کے ذریعے جامعہ ملیہ کے دہشت گرد سرکاری شعبہ جات پر قابض ہونے کی سازش میں کامیاب ہورہے ہیں۔

 اب دیکھنایہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کا مورچہ کھولنے والے اس چینل کے خلاف سرکاری مشینری اور پولیس کس حد تک اپنی غیر جانبداری دکھاتی ہے اور قانونی کی دھجیاں اڑانے والے کو کس طرح کٹھہرے میں کھڑا کرتی ہے۔


Share: